"حکیم محبوب زاہد کا مجموعہ کلام "سکوت‘
تبصرہ:اشفاق شاہین
منڈی بہاؤالدین کی مٹی
ہمیشہ سے علم و ادب کی آبیاری میں پیش پیش رہی ہے اور اسی مردم خیز خطے سے تعلق
رکھنے والے ممتاز شاعر حکیم محبوب زاہد صاحب کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ حال
ہی میں ان کا تیسرا شعری مجموعہ "سکوت" منظرِ عام پر آ کر ادبی حلقوں میں
توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ گفتگو فورم پبلیکیشنز لاہور کے زیرِ اہتمام شائع ہونے
والا یہ 144 صفحات کا مجموعہ حکیم صاحب کے فن کا وہ پختہ ثمر ہے جو ان کے سابقہ
مجموعوں "اوراقِ دل" اور "اور گرہ کھل گئی" کے تسلسل میں ایک
اہم سنگِ میل ثابت ہوا ہے۔ اس کتاب کا انتساب انہوں نے اپنے بچوں کے نام کیا ہے، یہ
جہاں ایک باپ کی محبت کا آئینہ دار ہے، وہیں نسلِ نو کی فکری آبیاری کا عزم بھی
ظاہر کرتا ہے۔ حکیم محبوب زاہد کی شخصیت کی طرح ان کی شاعری میں بھی ایک خاص طرح
کی متانت، سچائی اور دردمندی پائی جاتی ہے۔ کتاب کا آغاز حمدِ باری تعالیٰ، نعتِ
رسولِ مقبول ﷺ اور سلام سے ہوتا ہے۔ان کی غزلوں کا مطالعہ کیا جائے تو محسوس ہوتا
ہے کہ وہ محض قافیہ پیمائی کے قائل نہیں بلکہ زندگی کو اس کے تمام تر رنگوں،
تلخیوں اور رعنائیوں کے ساتھ جینے کا ہنر جانتے ہیں۔ ان کے ہاں سماج کے ناسوروں پر
گہری نظر ہے، وہ جب کہتے ہیں کہ :
مرہم کہاں
لگاؤں میں ناسور ہیں
بہت احباب اس لئے مرے رنجور ہیں بہت
![]() |
| Sukoot by Hakeem Mahboob Zahid: A Review by Ashfaq Shaheen | حکیم محبوب زاہد کا مجموعہ کلام ’سکوت‘ |
تو گویا وہ پورے عہد کے دکھ کو اپنی گرفت میں لے
لیتے ہیں۔ ان کے اشعار میں اپنوں کی بے وفائی کا شکوہ بھی ہے اور سماجی جبر کے
خلاف ایک خاموش احتجاج بھی، مگر اس کے باوجود وہ مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں
نہیں اترتے۔ حکیم صاحب کی شاعری کا ایک بڑا وصف ان کی رجائیت اور مثبت فکر ہے۔
جہاں آج کا شاعر قنوطیت کا شکار نظر آتا ہے، وہاں محبوب زاہد صاحب دلِ مردہ کو پھر
سے زندہ کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ
بجھا کر جن
دیوں کو لوگ خوش ہیں
انہیں پھر
سے درخشندہ کروں گا
ایسے اشعار ان کی انسان
دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وہ حالات کی
ستم ظریفیوں کو سانحہقرار دیتے ہیں مگر ان کے سامنے سرنگوں ہونے کے بجائے اپنی
خودداری اور انا کو مقدم رکھتے ہیں۔ ان کا لہجہ کہیں کہیں اس قدر بے باک ہو جاتا
ہے کہ وہ کسی سے اجازت طلب کرنے کے بجائے اپنی راہ خود متعین کرنے کا اعلان کرتے
ہیں۔ یہ خود اعتمادی صرف ایک تجربہ کار اور مشاق شاعر کے ہاں ہی مل سکتی ہے۔ فنی
لحاظ سے دیکھا جائے تو "سکوت" کی غزلیں زبان و بیان کے تمام تر محاسن سے
مالامال ہیں۔ حکیم صاحب نے سہلِ ممتنع کا سہارا لیتے ہوئے بڑی بڑی کائناتی سچائیوں
کو عام فہم اور دل نشین انداز میں بیان کیا ہے۔ ان کے ہاں لفظوں کا انتخاب نہایت
سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے اور بحروں کی روانی قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔ یہ
مجموعہ کلام اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ شاعر نے زندگی کی دھوپ چھاؤں کو صرف دیکھا
ہی نہیں بلکہ محسوس بھی کیا ہے۔ "سکوت" دراصل وہ خاموشی ہے جس کے بطن سے
شعور کی ہزاروں صدائیں جنم لیتی ہیں۔ منڈی بہاؤدین کے اس سینئر شاعر نے ثابت کر
دیا ہے کہ سچا تخلیق کار شور و غوغا کے بجائے خاموشی کے ساتھ اپنے حصے کی شمع جلا
کر اندھیروں کا مقابلہ کرتا ہے۔ یہ کتاب بلاشبہ اردو ادب کے شعری اثاثے میں ایک
گراں قدر اضافہ ہے جو مدتوں اہل ذوق کے ذوقِ سلیم کی تسکین کا باعث بنی رہے گی۔
