Ticker

6/recent/ticker-posts

کیسہ ذات Keesa-e-Zat ڈاکٹر احسان گھمن کا شعری مجموعہ | تبصرہ از اشفاق شاہین



ڈاکٹراحسان گھمن کا مجموعہ کلام  کیسہ ذات  تبصرہ-اشفاق شاہین | Keesa-e-Zat by Dr EIhsan Ghumman Review


کیسہء ذات: ڈاکٹر احسان گھمن کا فکری تصویر خانہ

Keesa-e-Zat: Dr. Ihsan Ghumman ka Fikri Tasweer Khana

اردو غزل کی روایت اپنی جڑوں میں اتنی توانا اور اپنے ثمر میں اتنی شیریں ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کے رنگوں میں نیا پن اور اس کی خوشبو میں ایک نئی تازگی کا احساس ہوتا ہے۔ اس روایت کو آگے بڑھانے میں ان تخلیق کاروں کا بہت بڑا ہاتھ ہے جنہوں نے اس صنف سخن کو محض روایت کی پیروی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسےلہجے کی انفرادیت اور اپنے عہد کے شعور سے ہم آہنگ کیا ہے۔ اسی تناظر میں جب ہم موجودہ عہد کے شعری منظر نامے پر نظر ڈالتے ہیں تو جلال پور جٹاں سے تعلق رکھنے والے ممتاز شاعر ڈاکٹر احسان گھمن ایک ایسی قد آور اور معتبر آواز کے طور پر سامنے آتے ہیں جن کی شاعری میں قدیم و جدید کا ایک نہایت دلکش اور فنکارانہ امتزاج ملتا ہے۔ حال ہی میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ ’’کیسہء ذات‘‘ منظرِ عام پر آیا ہے جو نہ صرف ان کے اپنے تخلیقی سفر کا ایک روشن سنگِ میل ہے بلکہ عصری غزل کے مجموعی سرمایے میں ایک گراں قدر اضافہ بھی ہے۔ یہ کتاب رومیل ہاؤس آف پبلیکیشنز کی جانب سے نہایت خوبصورت گیٹ اپ اور 160 صفحات پر مشتمل دیدہ زیب ٹائٹل کے ساتھ سال 2026 میں شائع ہوئی ہے۔

کیسہء ذات کے مطالعے سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ احسان گھمن اپنی مٹی سے جڑے ہوئے ایک ایسے تخلیق کار ہیں جنہیں اپنی جڑوں کی اہمیت کا بخوبی اندازہ ہے۔ وہ کچے راستوں کی مسافت کو بوجھ نہیں سمجھتے بلکہ اسے اپنی پہچان کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا یہ مخصوص رنگ ان کے اس شعر میں نہایت نفاست سے جھلکتا ہے:


کچے رستوں کی مسافت کا مسافر ہوں میں

میرے چہرے پر پڑی گرد مرا غازہ ہے


اس شعر کی علامتی معنویت پر غور کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب مصنوعی پن اور شہر کی چکا چوند کے بجائے اس فطری سادگی کو ترجیح دیتے ہیں جو انسان کو اس کی اصل سے منسلک رکھتی ہے۔ 

ڈاکٹراحسان گھمن کا مجموعہ کلام  کیسہ ذات  تبصرہ-اشفاق شاہین | Keesa-e-Zat by Dr EIhsan Ghumman Review

احسان گھمن کی شاعری کا ایک اور مضبوط پہلو ان کا وہ فنکارانہ شعور ہے جو فن کی تخلیق کے عمل کو محض لفظوں کا کھیل نہیں سمجھتا۔ ان کے نزدیک شاعری یا مصوری صرف ظاہری نقش و نگار کا نام نہیں بلکہ اس میں روح پھونکنے کا عمل اصل کمال ہے۔ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ جب تک تخلیق میں زندگی کی رمق شامل نہ ہو، وہ ادھوری رہتی ہے۔ اسی فکری گہرائی کو انہوں نے نہایت خوبصورت تمثیل کے ذریعے یوں بیان کیا ہے:


شجر بنانے سے تصویر بن نہیں جاتی

کوئی پرندہ بھی اس پر بٹھانا پڑتا ہے


یہ شعر ان کے تخلیقی نظریہ کی بہترین ترجمانی کرتا ہے۔ یہاں شجر علامت ہے مادی وجود کی اور پرندہ علامت ہے اس زندگی، اس روح اور اس احساس کی جس کے بغیر کوئی بھی شاہکار مکمل نہیں ہو سکتا۔ 

جدید غزل کے حوالے سے ڈاکٹر احسان گھمن کا لہجہ نہایت منفرد اور توانا ہے۔  ان کی شاعری میں علامت نگاری کا استعمال نہایت فطری ہے، وہ پیچیدہ اصطلاحات کے بجائے عام فہم مگر معنی خیز علامتوں کے ذریعے اپنی بات کہنے کا ملکہ رکھتے ہیں۔ وہ جب ’’سانپ اور سیڑھی‘‘ کا ذکر کرتے ہیں یا ’’چراغ‘‘ جلانے کی بات کرتے ہیں، تو قاری کے سامنے زندگی کا ایک مکمل نقشہ کھنچ جاتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر زمین ہی اپنی جگہ سے ہل جائے تو قدموں کا لڑکھڑانا یقینی ہے، یہ دراصل اس سماجی بے یقینی اور بے ثباتی کا نوحہ ہے جس کا شکار آج کا انسان ہے۔ 

ڈاکٹر صاحب کی شاعری میں آئینے کا تذکرہ بھی بہت اہم ہے، مگر ان کا آئینہ صرف صورت دکھانے کا آلہ نہیں بلکہ وہ تو اس میں اپنی حقیقت اور اپنے ادھورے پن کو تلاش کرتے ہیں۔ وہ آئینے سے تقاضا کرتے ہیں کہ اسے وہی عکس دکھایا جائے جو حقیقت پر مبنی ہو، خواہ اس میں کتنے ہی نقائص کیوں نہ ہوں۔ یہ خود شناسی کا وہ سفر ہے جو ایک تخلیق کار کو عام انسانوں سے ممتاز کرتا ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ


آئینہ ہے تو عکس دکھایا کرے مجھے

میری طرح کا شخص دکھایا کرے مجھے


مختصر یہ کہ ’’کیسہء ذات‘‘ اردو ادب کے افق پر ایک ایسی روشن دستک ہے جسے دیر تک سنا جائے گا۔ ڈاکٹر احسان گھمن نے اپنی اس کتاب کے ذریعے ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف ایک پختہ گو شاعر ہیں بلکہ انسانی نفسیات اور کائناتی سچائیوں پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔

امید ہے کہ ان کا  شوق سفر یونہی جاری رہے گا ذور ہمیں مستقبل میں ان کی مزید شاہکار تخلیقات میسر آئیں گی