حمد "کعبے کی رونق کعبے کا منظر اللہ اکبر اللہ اکبر" کی مکمل تشریح | انٹرمیڈیٹ سال دوم اردو (نیا سلیبس 2026)
تعارف
سال دوم اردو کے نئے
سلیبس میں
شامل حمد "کعبے
کی رونق کعبے کا منظر اللہ اکبر اللہ اکبر"
کی مکمل تشریح پیش کی جا رہی ہے۔ اس میں ہر شعر کا
مفہوم، تفصیلی تشریح، ادبی خصوصیات، صنعتیں اور امتحانی نکات آسان زبان میں بیان
کیے گئے ہیں تاکہ طلبہ بورڈ امتحان کی بہتر تیاری کر سکیں۔
سید صبیح الدین رحمانی 27جون
1965 کو کراچی پیدا ہوئے۔گھر کی دینی ماحول نے آپ کو حمد اور نعت کی طرف متوجہ
کیا۔ سید صبیح الدین رحمانی علمی جریدے نعت رنگ کے مدیر بھی رہے۔آپ کو نعتیہ
خدمات پر حکومت کی جانب سے تمغائے امتیاز سے نوازا گیا۔ان کی یہ نظم حمدیہ کلام کا نہایت خوب صورت نمونہ ہے۔
پہلا شعر
کعبے کی رونق کعبے کا منظر اللہ اکبر
اللہ اکبر
دیکھوں تو دیکھے جاؤں برابر اللہ اکبر
اللہ اکبر
مفہوم:ـ
خانہ کعبہ کی خوبصورتی، وہاں کی رونق
اور اس کا روح پرور منظر الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ کعبے کا جلال و جمال
ایسا ہے کہ جب میں اسے دیکھتا ہوں تو میری نگاہیں وہیں جم کے رہ جاتی ہیں اور میں
اسے مسلسل دیکھتا ہی رہتا ہوں، اور اس کی عظمت کو دیکھ کر بے اختیار میری زبان سے
"اللہ اکبر" (اللہ سب سے بڑا ہے) کی صدائیں نکلتی ہیں۔
تشریح:ـ
تشریح طلب شعر کے مطابق شاعر جب کعبۃ
اللہ کی زیارت کرتا ہے تو اس کی روح پر ایک ایسی کیفیت طاری ہو جاتی ہے جسے الفاظ
میں بیان کرنا مشکل ہے۔ کعبہ مسلمانوں کا قبلہ، مرکزِ عبادت اور دنیا کا مقدس ترین
مقام ہے۔ اس کی عظمت صرف اس کی عمارت کی وجہ سے نہیں بلکہ اس نسبت کی وجہ سے ہے جو
اسے اللہ تعالیٰ کے گھر ہونے کا شرف عطا کرتی ہے۔شاعر کہتا ہے کہ جب میری نگاہ
کعبہ کی طرف اٹھتی ہے تو میں اس کے حسن، نور، وقار اور روحانی جلال میں ایسا کھو
جاتا ہوں کہ مسلسل اسے دیکھتا ہی چلا جاتا ہوں۔ دل کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ نگاہیں
ہٹانے کو جی نہیں چاہتا۔ اس منظر کو دیکھ کر زبان سے بے اختیار "اللہ اکبر" نکلتا ہے، کیونکہ انسان
اس عظمت کے سامنے اپنی بے بسی اور اللہ تعالیٰ کی کبریائی کو محسوس کرتا ہے۔بقول شاعر:
ترے نور کی روشنی ہر طرف ہے
ترے نور کا ہر طرف ہے اجالا
اس شعر میں دراصل کعبہ کی ظاہری خوب
صورتی سے زیادہ اس کی روحانی کشش بیان کی گئی ہے۔ دنیا میں بہت سی خوب صورت
عمارتیں موجود ہیں، لیکن کعبہ کی عظمت اس لیے منفرد ہے کہ یہ توحید کا مرکز، حضرت
ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کی یادگار، اور کروڑوں مسلمانوں کے
دلوں کی دھڑکن ہے۔ ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اس مقدس مقام کی زیارت کرے،
اس کے سامنے سجدہ ریز ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں سے فیض یاب ہو۔
شاعر نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جب
انسان اللہ تعالیٰ کی نشانیوں پر غور کرتا ہے تو اس کے دل میں اللہ کی عظمت مزید
بڑھ جاتی ہے۔ اسی لیے وہ بار بار "اللہ
اکبر" کہہ
کر اپنی حیرت، محبت اور عقیدت کا اظہار کرتا ہے۔ اس شعر سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ
کے نیک بندوں کے نزدیک عبادت صرف ایک رسم نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے محسوس کی
جانے والی روحانی کیفیت کا نام ہے
شعری خوبیاں
- صنعتِ تکرار:
"اللہ اکبر" کی تکرار۔
- منظر نگاری:
"کعبے کی رونق، کعبے کا منظر" کے
ذریعے ایک جیتا جاگتا منظر پیش کیا گیا ہے۔
- مبالغہ:
"دیکھوں تو دیکھے جاؤں برابر" میں
کعبہ کے حسن اور کشش کو مؤثر انداز میں بڑھا کر بیان کیا گیا ہے۔
- حسنِ تعلیل
(معنوی کیفیت):
کعبہ کو مسلسل دیکھنے کی وجہ اس کی
روحانی عظمت کو قرار دیا گیا ہے۔
دوسرا شعر
حمد خدا سے تر ہیں زبانیں کانوں میں
رَس گھولتی ہیں اذانیں
بس اِک صدا آ رہی ہے برابر اللہ اکبر
اللہ اکبر
مفہوم:ـ
اس شعر میں شاعر حرمِ کعبہ کے روح
پرور ماحول کی منظرکشی کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ کعبہ کے مقدس ماحول میں ہر زبان
اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا میں مشغول ہے، ہر طرف اذانوں کی دل نشین آوازیں فضا میں
مٹھاس گھول رہی ہیں، اور پورا ماحول ایک ہی عظیم نعرے "اللہ
اکبر" سے
گونج رہا ہے۔ یہ منظر انسان کے دل میں خشوع، عقیدت، محبتِ الٰہی اور روحانی سرشاری
پیدا کر دیتا ہے۔
تشریح:ـ
شاعر اس شعر میں خانۂ کعبہ کے روحانی
ماحول کی نہایت خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے۔ وہ بیان کرتا ہے کہ جب کوئی مسلمان بیت
اللہ کے مقدس ماحول میں داخل ہوتا ہے تو اسے ہر طرف اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا
سنائی دیتی ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک، زبانوں اور نسلوں سے آئے ہوئے مسلمان ایک ہی
رب کی بڑائی بیان کر رہے ہوتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہر زبان اللہ کی تعریف
میں تر ہے اور ہر دل اس کی عظمت کے احساس سے لبریز ہے۔بقول ممتاز راشد
سارے نغمے ساری صدائیں
تیری ہیں
میرے لبوں کی ساری دعائیں
تیری ہیں
شاعر کا یہ کہنا کہ "کانوں میں رس گھولتی ہیں
اذانیں" ایک
نہایت حسین استعاراتی اندازِ بیان ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ واقعی کانوں میں رس
ڈالا جا رہا ہے، بلکہ اذان کی آواز اس قدر دلکش، روح پرور اور ایمان افروز ہے کہ
اسے سن کر دل کو سکون، روح کو تازگی اور ایمان کو قوت حاصل ہوتی ہے۔ اذان کی آواز
انسان کو دنیا کی مصروفیات سے نکال کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف متوجہ کرتی ہے۔شاعر
نے حرم کی اس روحانی کیفیت کو بیان کیا ہے جہاں ہر سمت اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا
اعلان سنائی دیتا ہے۔ نمازیوں کی تکبیریں، مؤذن کی اذان، طواف کرنے والوں کی
دعائیں اور ذکر و تسبیح سب مل کر ایک ایسا روحانی ماحول پیدا کرتے ہیں جس میں
انسان اپنی ذات کو بھول کر صرف اپنے رب کی عظمت کا اعتراف کرتا ہے۔
یہ شعر دراصل اس حقیقت کی طرف بھی
اشارہ کرتا ہے کہ اسلام مسلمانوں کو رنگ، نسل، زبان اور قومیت سے بالاتر ہو کر صرف
ایک اللہ کی بندگی کا درس دیتا ہے۔ دنیا بھر سے آنے والے مسلمان مختلف زبانیں
بولتے ہیں، مگر سب کی آواز میں ایک ہی نعرہ مشترک ہوتا ہے
"اللہ
اکبر"
یہی اسلامی اخوت، وحدت اور توحید کا سب سے خوبصورت منظر ہے۔
فنی و ادبی خصوصیات
1۔
صنعتِ تکرار
لفظ "اللہ
اکبر، اللہ اکبر"
کی بار بار تکرار شعر میں روحانی کیفیت، جوشِ ایمانی
اور تاثیر پیدا کرتی ہے۔
2۔
صنعتِ مراعات النظیر
زبانیں، کان، اذانیں، صدا
یہ تمام الفاظ سماعت اور گفتگو سے متعلق ہیں، اس لیے ان میں مراعات النظیر
پائی جاتی ہے۔
3۔ منظر نگاری
شاعر نے نہایت مؤثر انداز میں حرم کا
ایسا روحانی منظر پیش کیا ہے کہ قاری خود کو اس ماحول میں محسوس کرنے لگتا ہے۔
4۔ سادگی اور روانی
الفاظ نہایت آسان، عام فہم اور پراثر
ہیں، اس لیے شعر ہر عمر کے قاری کے دل پر اثر چھوڑتا ہے۔
تیسرا شعر
مانگی ہیں میں نے جتنی دعائیں منظور
ہوں گی مقبول ہوں گی
میزابِ رحمت ہے میرے سر پر اللہ اکبر
اللہ اکبر
مفہوم:ـ
اس شعر میں شاعر خانہ کے مقدس ماحول
میں کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی رحمت، قبولیتِ دعا اور اس کی بے پایاں مہربانی کا
اظہار کرتا ہے۔ شاعر کو یقین ہے کہ اللہ کے گھر میں مانگی گئی دعائیں ضرور قبول
ہوں گی کیونکہ وہ رحمتِ الٰہی کے سائے میں کھڑا ہے۔
تشریح:ـ
شاعر نہایت عقیدت اور وارفتگی کے عالم
میں بیان کرتا ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور جتنی بھی دعائیں مانگی ہیں، مجھے
کامل یقین ہے کہ وہ سب قبول ہوں گی۔ یہ یقین کسی غرور یا خود اعتمادی کی وجہ سے
نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت، کرم اور وعدۂ قبولیت پر ایمان کی بنیاد پر ہے۔ کعبہ
معظمہ وہ مبارک مقام ہے جہاں لاکھوں مسلمان اپنی امیدیں، تمنائیں اور دعائیں لے کر
حاضر ہوتے ہیں۔ یہ مقام اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے نزول کا مرکز ہے، اسی لیے شاعر
محسوس کرتا ہے کہ یہاں کی جانے والی ہر سچی اور خالص دعا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ
میں ضرور شرفِ قبولیت پاتی ہے۔
میزابِ رحمت
سے مراد خانۂ کعبہ کی وہ سنہری نالی (میزاب) ہے جس کے ذریعے بارش کا پانی گرتا ہے۔
عوام میں اسے میزابِ رحمت کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اللہ کی رحمت کی علامت
سمجھی جاتی ہے۔ شاعر نے اس حقیقت کو نہایت خوبصورتی سے روحانی انداز میں بیان کیا
ہے کہ گویا وہ اس مقام پر کھڑا ہے جہاں اللہ کی رحمت اس پر سایہ فگن ہے۔ اس کیفیت
میں اس کا ایمان مزید مضبوط ہو جاتا ہے اور وہ بے اختیار "اللہ
اکبر، اللہ اکبر" پکار
اٹھتا ہے۔ یہ الفاظ اللہ تعالیٰ کی عظمت، کبریائی، شکر گزاری اور روحانی سرشاری کا
اظہار ہیں۔مظفر وارثی نے کہا تھا:
میں بندہ عاصی ہوں خطا
کار ہوں مولا
لیکن تری رحمت کا طلب گار
ہوں مولا
وابستہ ہے امید مری تیرے
کرم سے
تیرا ہوں فقظ تیرا پرستار
ہوں مولا
یہ شعر انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ
اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اخلاص، عاجزی اور کامل یقین
کے ساتھ مانگی گئی دعا اللہ تعالیٰ ضرور قبول فرماتا ہے، اگرچہ اس کی قبولیت کا
طریقہ اور وقت اللہ کی حکمت کے مطابق ہوتا ہے۔ کعبہ مسلمانوں کے لیے امید، رحمت،
مغفرت اور قبولیتِ دعا کی عظیم علامت ہے، جہاں بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قرب
محسوس کرتا ہے۔
شعری خوبیاں:
1۔
استعارہ:
"میزابِ رحمت"
ایک خوبصورت استعاراتی ترکیب ہے۔ یہاں میزاب کو اللہ
تعالیٰ کی بے پایاں رحمت کی علامت بنا کر پیش کیا گیا ہے۔
2۔ تکرار:
"اللہ اکبر اللہ اکبر" کی
تکرار شعر میں جذبۂ عقیدت، وارفتگی اور روحانی کیفیت کو مؤثر بناتی ہے۔
4۔
حسنِ عقیدت:
پورا شعر اللہ تعالیٰ، خانۂ کعبہ اور اس کی رحمت سے بے
مثال محبت اور عقیدت کا آئینہ دار ہے۔
5۔
سادگی و اثر آفرینی:
شاعر نے نہایت آسان اور عام فہم الفاظ میں گہرا روحانی
مفہوم بیان کیا ہے، جس سے شعر ہر قاری کے دل پر اثر چھوڑتا ہے۔
چوتھا شعر
یاد آگئیں جب اپنی خطائیں، اشکوں میں
ڈھلنے لگیں التجائیں
رویا غلافِ کعبہ پکڑ کر، اللہ اکبر
اللہ اکب
مفہوم:ـ
اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے پر
انسان کو اپنی تمام غلطیاں اور گناہ یاد آ جاتے ہیں۔ احساسِ ندامت سے آنکھیں اشک
بار ہو جاتی ہیں اور سچے دل سے مانگی جانے والی دعا اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید
بن جاتی ہے۔
تشریح:ـ
اس بند میں انسان کی روحانی کیفیت،
احساسِ ندامت اور اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کا نہایت مؤثر نقشہ پیش کیا گیا ہے۔
جب بندہ خانۂ کعبہ کی حاضری کی سعادت حاصل کرتا ہے تو اس کے دل پر دنیاوی خواہشات
اور غرور کی جگہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اپنی کمزوری کا احساس غالب آ جاتا ہے۔ اس
لمحے اسے اپنی زندگی کی تمام کوتاہیاں، گناہ اور لغزشیں ایک ایک کرکے یاد آنے لگتی
ہیں اور وہ دل کی گہرائی سے اپنے رب کے حضور معافی کا طلبگار بن جاتا ہے۔
احساسِ ندامت اس قدر شدید ہوتا ہے کہ
زبان سے ادا ہونے والی دعائیں آنسوؤں کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ اس سے مراد یہ
ہے کہ بندے کی توبہ محض رسمی الفاظ تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے دل کی کیفیت
آنکھوں کے ذریعے ظاہر ہونے لگتی ہے۔ ایسے آنسو اخلاص، عاجزی، خشوع اور اللہ تعالیٰ
کی رحمت پر کامل یقین کی علامت ہوتے ہیں۔ اسلام میں سچے دل سے کی جانے والی توبہ
کو بہت بڑی عبادت قرار دیا گیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کو پسند
فرماتا ہے جو اپنی غلطیوں کا اعتراف کرکے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
غلافِ کعبہ کو پکڑ کر رونا محبت،
عقیدت، بے بسی اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے وابستگی کی علامت ہے۔ اس منظر سے معلوم
ہوتا ہے کہ جب انسان اپنے رب کے در پر پہنچتا ہے تو اس کی ساری توجہ صرف اپنے خالق
کی رضا اور مغفرت کے حصول پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ اس وقت نہ دنیا کی کوئی خواہش باقی
رہتی ہے اور نہ ہی کسی اور سہارے کی امید؛ صرف اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی اس کا سہارا
ہوتی ہے۔
اک ہاتھ غلاف کعبہ پر اک
ہاتھ در کعبہ کے قریں
کعبہ سے لپٹنے والوں کا
وہ دیدۂ پرنم کیا کہنا
آخر میں اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا
اعلان اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ حقیقی عظمت، قدرت اور اختیار صرف اللہ تعالیٰ
کے پاس ہے۔ بندہ اپنی بے بسی کا اعتراف کرتے ہوئے اسی کی بارگاہ میں جھکتا ہے اور
اسی سے مغفرت، رحمت اور کامیابی کی دعا کرتا ہے۔ یہی کیفیت انسان کے ایمان کو
مضبوط کرتی ہے اور اسے تقویٰ، اخلاص اور نیک اعمال کی طرف مائل کرتی ہے۔احمد رضا
خاں نے غلاف کعبہ اور نبی کے در کے پردے
سے عقیدت کا اظہا یوں کیا ہے
خوب آنکھوں سے لگایا ہے
غلاف کعبہ
قصر محبوب کے پردے کا بھی
جلوہ دیکھو
یہ بند اس بات کا درس دیتا ہے کہ
انسان کو ہمیشہ اپنی غلطیوں پر نادم رہنا چاہیے، خلوصِ دل سے توبہ کرنی چاہیے اور
اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ وہ اپنے توبہ کرنے
والے بندوں کو معاف فرمانے والا اور نہایت مہربان ہے۔
بے شک اللہ بہت زیادہ توبہ کرنے والوں
سے محبت کرتا ہے۔ "إِنَّ
اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ"سورۃ
البقرۃ
شعری خوبیاں:
1۔
جذبات نگاری:
ندامت، خشوع، گریہ و زاری اور اللہ تعالیٰ سے لو لگانے
کے جذبات نہایت مؤثر انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔
2۔
منظر نگاری:
غلافِ کعبہ کو پکڑ کر دعا اور گریہ کا منظر قاری کے ذہن
میں ایک روح پرور کیفیت پیدا کرتا ہے۔
3۔
استعاراتی اندازِ بیان:
"التجاؤں کا اشکوں میں ڈھل جانا" اس
بات کا استعارہ ہے کہ دعا دل کی گہرائی اور کامل اخلاص کے ساتھ کی جا رہی ہے۔
4۔
تکرار:
آخر میں اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا بار بار اظہار
روحانی اثر، عقیدت اور کیفیت کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
5۔
سادگی اور تاثیر:
الفاظ آسان، عام فہم اور نہایت پراثر ہیں، جس کی وجہ سے
شعر ہر قاری کے دل پر اثر چھوڑتا ہے۔
پانچواں شعر
بھیجا ہے جنت سے تجھ کو خدا نے، چوما
ہے تجھ کو میرے مصطفٰی نے
اے سنگِ اسود تیرا مقدر، اللہ اکبر
اللہ اکبر
مفہوم:ـ
اس شعر میں شاعر سنگِ اسود کی عظمت،
فضیلت اور تقدس کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کے مطابق یہ وہ مبارک پتھر ہے جسے اللہ
تعالیٰ نے جنت سے نازل فرمایا اور رسولِ اکرم ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے اسے بوسہ دے
کر اس کی عزت و حرمت کو مزید بلند فرمایا۔
تشریح:ـ
شاعر اس شعر میں سنگِ اسود کی فضیلت
اور اس کے بلند مقام کو نہایت عقیدت اور محبت کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ
سنگِ اسود کوئی عام پتھر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے جنت سے زمین پر بھیجا ہے۔
اسی وجہ سے اسے تمام دنیا کے مسلمانوں کے نزدیک بے حد احترام حاصل ہے۔
احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ
سنگِ اسود جنت کا پتھر ہے۔ ابتدا میں اس کا رنگ دودھ سے زیادہ سفید تھا، لیکن
انسانوں کے گناہوں کی وجہ سے وہ سیاہ ہوگیا۔ اس حقیقت کو رسولِ اکرم ﷺ کی حدیث سے
بھی تقویت ملتی ہے:
"سنگِ
اسود جنت سے اتارا گیا، وہ دودھ سے زیادہ سفید تھا، پھر بنی آدم کے گناہوں نے اسے
سیاہ کر دیا۔جامع ترمذی
اس پتھر کی سب سے بڑی سعادت یہ ہے کہ
رسولِ اکرم ﷺ نے خود اسے بوسہ دیا۔ آپ ﷺ نے نہ صرف حجۃ الوداع بلکہ دیگر مواقع پر
بھی طواف کے دوران سنگِ اسود کو بوسہ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان آج بھی سنتِ نبوی
ﷺ کی پیروی کرتے ہوئے استطاعت کی صورت میں اسے بوسہ دینے یا اس کی طرف اشارہ کرنے
کی کوشش کرتے ہیں۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
حجر اسود کی ہے یہ خوش
بختی
اس کی عظمت بڑھائے شاہ
امم
یعنی دنیا کی بے شمار نعمتوں کے
باوجود شاید ہی کسی بے جان شے کو وہ مقام ملا ہو جو سنگِ اسود کو حاصل ہے۔ اللہ
تعالیٰ نے اسے جنت سے بھیجا، اسے اپنے گھر خانۂ کعبہ کی زینت بنایا، اور رسولِ
رحمت ﷺ کے لبوں کا بوسہ نصیب فرمایا۔ اس سے بڑھ کر کسی چیز کی خوش نصیبی اور کیا
ہو سکتی ہے؟
آخر میں شاعر "اللہ
اکبر" کہہ
کر اللہ تعالیٰ کی قدرت، شان اور عظمت کا اظہار کرتا ہے۔ گویا وہ اس عظیم اعزاز پر
حیرت اور عقیدت کے جذبات کا اظہار کر رہا ہے کہ ایک پتھر کو اللہ تعالیٰ نے ایسا
مقام عطا فرمایا جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔
وہ شوق، طوافِ کعبہ کا
اور بوسۂ حجر اسود کا
پر کیف وہ دور جام سبو و
ہ بادۂ زمزم کیا کہنا
اس شعر کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ عظمت
اور عزت صرف اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے۔ جس چیز کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ عزت بخش
دیں، وہ ہمیشہ قابلِ احترام بن جاتی ہے۔ سنگِ اسود کی عظمت بھی اسی نسبت کی وجہ سے
ہے، نہ کہ اس کی مادی حیثیت کی بنا پر۔
شعری خوبیاں
1۔
صنعتِ تکرار:
"اللہ اکبر، اللہ اکبر"
کی تکرار نے شعر میں حسن، زور اور روحانی کیفیت پیدا کر
دی ہے۔
2۔
صنعتِ خطاب:
شاعر نے براہِ راست "اے
سنگِ اسود" کہہ
کر سنگِ اسود کو مخاطب کیا ہے، جس سے شعر میں تاثیر پیدا ہوئی ہے۔
3۔ صنعتِ مراعات النظیر:
"خدا"، "مصطفیٰ ﷺ"،
"جنت" اور "سنگِ اسود" سب مذہبی اور مقدس الفاظ ہیں، اس لیے
ان میں معنوی مناسبت پائی جاتی ہے۔
پروفیسر اشفاق شاہین
✍️ مصنف کے بارے میں
پروفیسر اشفاق
شاہین اردو زبان و ادب کے استاد، مصنف اور
تعلیمی رہنما ہیں۔ وہ انٹرمیڈیٹ اور دیگر جماعتوں کے لیے اردو ادب کی تشریحات،
ادبی مضامین اور امتحانی رہنمائی پر مسلسل کام کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد طلبہ کو
آسان، مستند اور نئے نصاب کے مطابق معیاری تعلیمی مواد فراہم کرنا ہے تاکہ طلبہ
امتحانات کی بہتر تیاری کر سکیں۔
ادب ساز پر مزید
اردو نوٹس، تشریحات اور تعلیمی رہنمائی کے لیے دیگر مضامین بھی ملاحظہ کریں۔
