Ticker

6/recent/ticker-posts

سبق مینار تشریح و سیاق و سباق | Minar Tashreeh Siyaq o Sabaq Class 12 Urdu Notes

 

سبق مینار تشریح و سیاق و سباق | Minar Tashreeh Siyaq o Sabaq Class 12 Urdu Notes

 سبق مینارکے اہم اقتباسات کی تشریح و سیاق و سباق انٹرمیڈیٹ سال دوم

اقتباس کی تشریح بحوالہ  سباق بارہویں جماعت inter part2کے اردو  پیپر کا تیسرا سوال ہے۔ پرچہ میں دو اقتباسات  دیےجاتے ہیں ان میں سے ایک عبارت کی تشریح بحوالہ ،سیاق و سباق درکار ہوتی ہے۔اس سوال کے کل نمبر 15 ہیں۔نمبروں کی ترتیب کچھ اس طرح ہوتی ہے۔ عنوان کا ایک نمبر، مصنف کا نام  ایک نمبر۔ اس کے بعد سیاق و سباق لکھا جاتا ہے جس کے تین نمبر ہوتے ہیں اور اس کے بعد تشریح کے 10 نمبر ہوتے ہیں ۔ایسے اسباق جن کی نوعیت مضمون کی ہو ان کے لیے  اجمالی سیاق و سباق لکھنا بہتر رہتا ہے۔ درج ذیل سطور میں اجمالی سیاق و سباق دیا گیا ہے۔اس کی خوبی  یہ ہے کہ اس سبق مینار میں کہیں سے بھی کوئی اقتباس آجائے آپ یہی سیاق و سباق ہر ایک پیراگراف کے لیے تحریر کر سکتے ہیں۔

سبق کا عنوان: مینار               مصنف کا نام:مختار مسعود

مصنف کا تعارف

سبق مینار کے مصنف مختار مسعود سیالکوٹ میں پیدا ہوئے علی گڑھ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور بطور استاد خدمات انجام دیتے رہے اپ کی تحریروں میں ہندوستان کے مسلمانوں کی بیداری اور تحریک ازادی کا ذکر ملتا ہے اپ کی تحریر کا انداز ادبی ہے بطور مصنف اپ کی یہ خوبی ہے کہ اپ کاری کو اپنی تحریر میں ساتھ ساتھ لے کر چلتے ہیں قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ یہ واقعات اپنی انکھوں سے دیکھ رہا ہے مختار مسعود کی اہم کتابوں میں اواز دوست سفر نصیب لوہے ایام حرف شوق خاص طور پر قابل ذکر ہیں

سیاق و سباق 

مینار پاکستان کی مجلس تعمیر کی نشست تھی۔ میں بھی موجود تھا۔ میری دلی خواہش اور فرض منصبی ایک ساتھ پورے ہو رہے تھے۔ اس اجلاس میں منصوبہ سے لفظ یادگار حذف کر دیا گیا ۔کہا جاتا ہے کہ احرام مصر کا معمار جب صحرا میں پہنچا تو اس نے آب و ہوا کا جائزہ لے کر تعمیر کا منصوبہ بنایا اور یوں شان دار تعمیروجود میں آئی اگر وہ لاہور آتا تو نہ جانے کیا نقشہ ترتیب دیتا۔ مینار دنیا میں مختلف ضروریات کے تحت بنائے گئے ہیں۔ جن میں دفاع،سمندر میں راستہ کی رہنمائی اور عظمت کا اظہار  وغیرہ شامل ہیں۔ اب سمندر کے میں روشنی کے میناروں میں خدمت کی وہ روایت باقی نہیں رہی۔ ایک مینار میں نے سری لنکا کے گرد گھومتے ہوئے بھی دیکھا۔

سبق مینارکے    پہلے اہم اقتباس  کی تشریح
سمندر کے کنارے جو مینار نشان راہ کے طور پر بنائے جاتے ہیں ان کے بالائی حصے رات کو روشن ۔۔۔۔۔۔۔۔ غیر ضروری بلکہ مضر قرار دے دی گئی ہے۔

تشریح 

تشریح طلب  اقتباس   سبق، مینار سے لیا گیا ہے جس کے مصنف مختارمسعود ہیں۔ ان کی تحریروں میں مسلمانوں کی بیداری اور تحریک آزادی کی تفصیل ملتی ہے۔آپ ادبی چاشنی کے ساتھ ساتھ مقسدیت کا پہلو  ہم قدم رکھتے ہیں۔دی گئی عبارت کا بنیادی موضوع "مشینی دور میں انسانی جذبوں اور انفرادی صلاحیتوں کا زوال" ہے۔ مصنف نے سمندری جہازوں کو راستہ دکھانے والے 'روشن میناروں' (Lighthouses) کی مثال دے کر یہ واضح کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی نے جہاں انسان کے لیے آسانیاں پیدا کی ہیں، وہیں اس نے انسان سے اس کی جرات، بہادری اور مشقت کا حسن بھی چھین لیا ہے۔مصنف کہتا ہے کہ سمندروں کے کناروں اور خطرناک چٹانوں پر بحری جہازوں کی رہنمائی کے لیے جو مینار تعمیر کیے جاتے ہیں، انہیں ان کی رات کی روشنی کی وجہ سے 'روشن مینار' کہا جاتا ہے۔ مصنف کے ذہن میں ان میناروں کے حوالے سے ایک رومانوی اور مہم جویانہ تصور قائم تھا کہ یہ مینار سمندر کے انتہائی خطرناک طوفانی علاقوں میں ہوتے ہیں، جہاں کا رکھوالا اپنی زندگی شدید تنہائی، محنت اور جفاکشی میں گزارتا ہے۔ طوفان آنے کی صورت میں وہ مینار کا رکھوالا باقی دنیا سے کٹ کر رہ جاتا ہے لیکن پھر بھی اپنا فرض نبھاتا ہے۔

مصنف جب حقیقت میں ایسا ہی ایک مینار دیکھنے گیا تو اسے شدید مایوسی ہوئی۔ اس نے دیکھا کہ سائنسی ترقی نے سب کچھ بدل دیا ہے۔ اب پرانے وقتوں کی طرح تیل جلا کر روشنی نہیں کی جاتی بلکہ یہ کام گیس اور بجلی نے لے لیا ہے۔ مشینوں کی وجہ سے اب مینار کی حفاظت اور روشنی کے لیے کسی انسان کی مستقل ڈیوٹی کی ضرورت نہیں رہی، بلکہ ساحل پر موجود اہلکار شام کو محض ایک بٹن دبا کر اسے روشن کر دیتے ہیں اور صبح بجھا دیتے ہیں۔

عبارت کے آخر میں مصنف ایک گہری فلسفیانہ بات کرتا ہے کہ "آہستہ آہستہ پرانے بادہ کش اٹھتے جا رہے ہیں" (یعنی پرانے وقتوں کے بہادر اور جفاکش لوگ ختم ہو رہے ہیں)۔ سائنسی ترقی نے انسان کی انفرادی خوبیاں جیسے شجاعت، بہادری اور محنت کو غیر ضروری بنا دیا ہے۔ اب بہادری دکھانے کے مواقع کم ہو گئے ہیں کیونکہ ہر کام مشینوں نے سنبھال لیا ہے۔

علامہ اقبال نے تیزی سے بدلتی دنیا اور نت نئی ایجادات کے انسانی معاشرے پر اثرات کے حوالے سے کہا تھا:

زمانے کے انداز بدلے گئے

نیا راگ ہے ساز بدلے گے

سبق مینار تشریح و سیاق و سباق | Minar Tashreeh Siyaq o Sabaq Class 12 Urdu Notes


سبق مینارکے    دوسرے اہم اقتباس  کی تشریح
کہتے ہیں جب اہرام مصر کا معمار موقع پر پہنچا ۔۔۔۔۔۔ عجائب عالم کی فہرست میں اضافہ ہو گیا ہے۔

تشریح 

مصنف اس عبارت میں اہرام ِ مصر کی تعمیر کے پس منظر کو نہایت خوبصورت اور تخیلاتی انداز میں بیان کرتا ہے۔ اگرچہ یہ بیان تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ادبی اسلوب میں پیش کیا گیا ہے، لیکن اس کے ذریعے ایک عظیم معمار کی ذہانت، دوراندیشی اور فنی مہارت کو اجاگر کیا گیا ہے۔یہ اہرام مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے قریب جیزہ کے مقام پر واقع ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ تعمیرات 5000 سال سے زائد پرانی ہیں اور صدیوں تک یہ دنیا کی بلند ترین عمارتیں رہی ہیں۔

  عظیم اہرامِ جیزہ میں لاکھوں کی تعداد میں بھاری پتھر استعمال کیے گئے ہیں، جن میں سے ہر پتھر کا وزن 2 سے 80 ٹن کے درمیان ہے۔ بغیر جدید مشینری کے اتنے وزنی پتھروں کو اتنی بلندی تک کیسے پہنچایا گیا، یہ آج بھی تاریخ کا ایک بڑا معمہ ہے۔۔

عبارت کے آغاز میں بتایا گیا ہے کہ جب معمار صحرا میں پہنچا تو اس نے سب سے پہلے اردگرد کے ماحول کا بغور جائزہ لیا۔ ایک کامیاب معمار کبھی بھی تعمیر شروع کرنے سے پہلے زمین، موسم، ماحول اور ضروریات کا مکمل مطالعہ کرتا ہے۔ اسی گہرے مشاہدے کی بنیاد پر وہ ایک بہترین منصوبہ تیار کرتا ہے۔ گویا کہ کسی بھی بڑے کام میں کامیابی کے لیے منصوبہ بندی اور حالات کا صحیح اندازہ لگانا بے حد ضروری ہے۔معمار نے چاروں طرف پھیلا ہوا بے کنار صحرا دیکھا۔ اس نے سوچا کہ اس وسیع میدان میں اگر کوئی عمارت بنائی جائے تو وہ عام عمارت نہیں ہونی چاہیے بلکہ اتنی بلند ہونی چاہیے کہ دور سے نظر آئے اور اپنی عظمت کا احساس دلائے۔یہ فیصلہ معمار کی بلند سوچ اور عظیم تخیل کی علامت ہے۔ وہ ایسی یادگار تعمیر کرنا چاہتا تھا جو ہمیشہ دنیا کی توجہ کا مرکز رہے۔اس کی ہمت اور محنت نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا تھا:

ہمت کرے   انسان تو کیا ہو نہیں سکتا

وہ کون سا عقدہ ہے جو وا ہو نہیں سکتا

صحرا کی ریت نرم اور بھربھری تھی۔ معمار نے فوراً محسوس کیا کہ ایسی زمین پر کمزور عمارت زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔ اس لیے اس نے فیصلہ کیا کہ عمارت انتہائی مضبوط، بھاری اور پتھروں سے تعمیر کی جائے تاکہ نرم زمین  پر مضبوطی سے جم جائے۔

اس نے صرف خوبصورتی نہیں بلکہ مضبوطی اور پائیداری کو بھی اہمیت دی۔ معمار نے سوچا کہ انسان کی زندگی تو چند دنوں کی مہمان ہے، لیکن اگر اس کی آخری آرام گاہ کو عظمت اور دوام دیا جائے تو وہ آنے والی نسلوں کے لیے یادگار بن سکتی ہے۔ اسی خیال کے تحت اس نے ایک ایسا عظیم مقبرہ تعمیر کیا جو ہزاروں برس بعد بھی اپنی شان و شوکت کے ساتھ موجود ہے۔ قدیم مصر کے فرعون مرنے کے بعد اپنی لاشوں کو محفوظ رکھتے تھے اور ان کے لیے عظیم الشان مقبرے تعمیر کرواتے تھے۔ یہی مقبرے بعد میں اہرامِ مصر کہلائے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بہترین منصوبہ بندی، مسلسل محنت، فنی مہارت اور اعلیٰ سوچ انسان کو ایسا کارنامہ انجام دینے کے قابل بناتی ہے جو صدیوں تک زندہ رہتا ہے۔

بہت محنت سے چنتا ہے وہ جب دیوار کی اینٹیں

خدا معمار کو محنت کا پھر اعزاز دیتا ہے

سبق مینار تشریح و سیاق و سباق | Minar Tashreeh Siyaq o Sabaq Class 12 Urdu Notes

Minar Tashreeh Siyaq o Sabaq Class 12 Urdu

سبق مینار    کے تیسرےاہم اقتباس  کی تشریح
تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ مینار کی ابتدائی ۔۔۔۔۔۔ تاریخ کا ایک نشان خیر ہے۔

تشریح 

مصنف اس عبارت میں مینار کی تاریخی، مذہبی، قومی اور علامتی اہمیت کو نہایت مختصر مگر جامع انداز میں بیان کرتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ مینار صرف اینٹوں اور پتھروں سے بنی ہوئی ایک بلند عمارت نہیں، بلکہ ہر دور میں اس کا مقصد بدلتا رہا ہے۔ ابتدا میں یہ دفاع کے لیے بنایا گیا، پھر طاقت اور شناخت کی علامت بنا، بعد ازاں دین کی سربلندی کی نشانی قرار پایا، اور آخرکار قومی یادگار اور خیر و برکت کی علامت کے طور پر تعمیر کیا جانے لگا۔ اسی سلسلے کی ایک عظیم مثال مینارِ پاکستان ہے، جو ہماری قومی تاریخ، آزادی اور نظریاتی تشخص کی علامت ہے۔

مینار ایک بلند اور عمودی تعمیر کو کہتے ہیں جو مختلف مقاصد کے لیے بنائی جاتی ہے۔ قدیم زمانے میں مینار فوجی نگرانی اور دشمن پر نظر رکھنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ بعد میں یہ بادشاہوں کی طاقت، مذہبی عظمت اور قومی یادگار کے طور پر تعمیر کیے جانے لگے۔ اسلامی تہذیب میں مساجد کے ساتھ مینار اذان دینے اور دینِ اسلام کی سربلندی کی علامت بن گئے۔

مینارِ پاکستان لاہور کے تاریخی مقام اقبال پارک میں واقع ہے۔ اس کی تعمیر 1960ء میں شروع ہوئی اور 1968ء میں مکمل ہوئی۔ یہ یادگار اس مقام پر تعمیر کی گئی جہاں 23 مارچ 1940ء کو تاریخی قراردادِ لاہور منظور ہوئی، جسے بعد میں قراردادِ پاکستان کہا گیا۔ مینارِ پاکستان اس تاریخی فیصلے کی یادگار ہے جس نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد وطن کی بنیاد رکھی۔

 

یہ مینارِ وفا، عہدِ کہن کا استعارہ ہے

یہ ہمت کا، یہ جرات کا چمکتا اک ستارہ  ہے

 

مصنف بتاتا ہے کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے مینار دفاعی مقاصد کے لیے تعمیر کیے گئے۔ قدیم زمانے میں بلند میناروں پر سپاہی کھڑے ہو کر دور تک دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھتے تھے۔ اس طرح حملے سے پہلے ہی حفاظتی انتظامات کر لیے جاتے تھے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مینار کی ابتدا انسان کی حفاظت اور دفاع کی ضرورت کے تحت ہوئی تھی۔

وقت گزرنے کے ساتھ مینار صرف دفاعی ضرورت تک محدود نہ رہے بلکہ مختلف سلطنتوں اور قوموں کی عظمت، طاقت اور شناخت کی علامت بن گئے۔ ہر بڑی تہذیب اپنی اہم کامیابی یا تاریخی واقعے کی یاد میں مینار تعمیر کرنے لگی۔
مینار کسی قوم کی شناخت، وقار اور تاریخی عظمت کی نمائندگی بھی کرتے ہیں اسلامی تہذیب میں مینار کو ایک نئی اہمیت حاصل ہوئی۔ مساجد کے میناروں سے اذان دی جانے لگی، جس کے ذریعے لوگوں کو نماز کی دعوت دی جاتی ہے۔ اس طرح مینار دینِ اسلام کی سربلندی، وحدت اور روحانی عظمت کی علامت بن گیا۔مصنف اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مینار صرف مادی تعمیر نہیں بلکہ دینی اقدار اور اسلامی تہذیب کا بھی نمائندہ ہے۔بعد میں مختلف ممالک نے اپنی اہم قومی کامیابیوں، آزادی کی جدوجہد اور تاریخی واقعات کی یاد میں مینار تعمیر کیے۔ ایسے مینار قوم کے روشن مستقبل، امن، ترقی اور خوش حالی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔گویا مینار آنے والی نسلوں کے لیے تاریخ کو زندہ رکھنے کا ذریعہ بھی ہوتے ہیں

پروفیسر اشفاق شاہین،پنجاب کالج  گجرات